نوئیڈا، 19؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)شری شری روی شنکرکے ادارے آرٹ آف لیونگ نے نیشنل گرین ٹریبونل پینل کی رپورٹ کوغیر سائنسی اوربے معنیٰ قراردیاہے جس میں یہ کہاگیاکہ آرٹ آف لیونگ کی طرف سے منعقد تین روزہ عالمی ثقافتی میلہ سے جمناندی کی سطح اورساحلی علاقے کو کافی نقصان پہنچا ہے۔آرٹ آف لیو نگ کے وکیل کیدار دیسائی اور ماہرِ ماحولیات پربھاکر راؤنے یہاں ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ مارچ میں ہوئے اس فیسٹیول سے ماحول کو کسی بھی قسم کاکوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے پھر سے اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔راؤنے کہاکہ اس کے دلدلی زمین ہونے کے بارے میں کوئی معلومات موجود نہیں تھی بلکہ ہمیں اتنا پتہ تھا کہ یہ صرف ڈوبنے والاعلاقہ ہے۔جہاں پراس فیسٹیول کاانعقاد ہوا تھا اس زمین کے دلدلی ہونے کو لے کر دہلی کے زمینی نقشہ میں کہیں کوئی ذکر نہیں ہے۔راؤنے کہاکہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں نقصان کااندازہ نہیں لگایا گیا ہے ۔شروع شروع میں اس میں120کروڑکے نقصان کااندازہ لگایاگیاتھااوراب وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ کوئی اعداد و شمار نہیں بتا سکتے۔انہوں نے کہاکہ ہم لوگ این جی ٹی سے اس کی تحقیقات کو لے کر ایک منصفانہ کمیٹی قائم کرنے کی اپیل کر تے ہیں۔اس معاملے میں دیسائی نے کہاکہ ہمیں عدلیہ پرپورابھروسہ ہے اورہم امیدکرتے ہیں کہ این جی ٹی انصاف کرے گی۔ہم لوگوں نے این جی ٹی کی رپورٹ کو لے کر اپنا اعتراض درج کرادیاہے اور منصفانہ کمیٹی کے ذریعہ پھر سے جانچ کرانے کی اپیل کی ہے۔کمیٹی نے اپنی 47صفحاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سیلاب سے متاثر پورے علاقے کا اہم تقریب کے لیے استعمال کیا گیا جس میں ڈی این ڈی فلائی اوراور بارہ پولانالا(جمناندی کے دائیں کنارے پر)کے درمیان والے علاقے کو معمولی نقصان نہیں پہنچا ہے بلکہ مکمل طور پر وہ علاقہ تہس نہس ہو گیاہے۔پینل نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ تقریب کے انعقاد کی وجہ سے وہ پورا علاقہ قدرتی پودوں کی صلاحیت کوکھوچکا ہے۔